ممبئی، 21/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) مہاراشٹر میں مراٹھا تحریک کے مرکزی رہنما منوج جرانگے پاٹل نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ مراٹھا اکثریتی علاقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتاریں گے۔ ان کے اس اقدام سے حکمران اتحاد بی جے پی اور شیوسینا کی انتخابی حکمت عملی متاثر ہونے کا امکان ہے، جس سے دونوں جماعتوں کے ووٹ بینک میں دراڑ پیدا ہو سکتی ہے۔
جرانگے نے جالنہ ضلع کے انترولی سرتی گاؤں میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ان نشستوں پر امیدوار کھڑے کریں گے جہاں مراٹھا برادری کے امیدوار کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں جہاں مراٹھا برادری کی کامیابی کا امکان کم ہے، وہ ان امیدواروں کی حمایت کریں گے جو مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کی حمایت کرنے کا عہد کریں گے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت، ذات یا مذہب سے ہو۔
جرانگے نے زور دیا کہ ان کے امیدواروں کو ریزرویشن کے مطالبے کی تحریری یقین دہانی کرنی ہوگی۔ انہوں نے ممکنہ امیدواروں سے درخواست کی کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی داخل کریں اور کہا کہ حتمی فیصلہ 29 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ اگر کسی امیدوار سے درخواست کی جائے گی کہ وہ نامزدگی واپس لے، تو اسے اس مطالبے کی پیروی کرنی ہوگی۔
جرانگے نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر مراٹھا تحریک کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مراٹھا برادری سے اپیل کی کہ وہ او بی سی زمرے کے تحت ریزرویشن کے مطالبے پر متحد ہوں اور اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہیں۔ جرانگے کا مطالبہ ہے کہ مراٹھا برادری کو کنبی کسان گروپ کے تحت او بی سی زمرے میں شامل کیا جائے اور اس کے لیے حیدرآباد، ممبئی، اور ستارا کے گزٹ نوٹیفکیشنز کو نافذ کیا جائے۔
مہاراشٹر کی 288 رکنی اسمبلی کے انتخابات کے لیے 20 نومبر کو ووٹنگ ہوگی، اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔